کینیڈا:مذہبی علامات والی اشیا پہننے پر پابندی کا منصوبہ

مجوزہ قانون کے منظور ہونے کے بعد صوبے کی دائیں بازو کی حکمراں جماعت کولیشن اَوینیر کیوبیک اور وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کے درمیان تناؤ پیدا ہونےکاخدشہ ہے،جوملک میں مذہبی آزادی کو فروغ دیتے ہیں۔ہالیفیکس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے جسٹن ٹروڈو کاکہنا تھا کہ ‘میں یہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ آزاد معاشرے میں ہم شہریوں سے ان کےمذہب کی بنیاد پر امتیاز کو قانونی حیثیت دیں گے۔
دوسری جانب باقدین کا اس متنازع قانون پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہناہےکہ یہ اقدام کےذریعےمسلم خواتین نشانہ بنیں گی جو حجاب یا دیگر طریقوں سے سر ڈھانپتی ہیں۔ کیوبیک میں 2017 میں عوامی سروسز دینے اور لینے والوں پر چہرے کو مکمل طور پر ڈھانپنے پر پابندی منظور کی گئی تھی تاہم گزشتہ سال جون میں کینیڈا کے ایک جج نے اس پابندی کو معطل کردیا تھا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.