ملالہ یوسفزئی مقبوضہ کشمیر میں انسانی المیہ کیخلاف بول اٹھیں

سوشل میڈیا ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے ملالہ یوسفزئی کا کہنا تھا کہ چالیس روز سے بچے سکول نہیں جا پا رہے، بچیاں گھر وں سے نکلتے ڈرتی ہیں، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اراکین کشمیریوں کی آواز کو سنیں اور قیام امن میں کردار ادا کریں۔نوبل انعام یافتہ کا کہنا تھا کہ گزشتہ ہفتہ کشمیر میں موجود طالبعلموں، صحافیوں اوروکیلوں سے بات کرنے میں صرف کیا، میں کشمیری بچیوں سے صورتحال براہ راست سننا چاہتی تھی۔ بلیک آؤٹ کی وجہ سے انکی آواز نہیں سن پائی۔
ملالہ یوسفزئی کا مزید کہنا تھا کہ 3 کشمیری بچیوں نے بتایا کہ وادی میں خاموشی کا راج ہے، صورتحال ڈراؤنی ہے، ہمیں نہیں پتہ باہر کیا ہو رہا ہے، صرف بھارتی فوج کے قدموں کی آواز سنائی دیتی ہے۔ ہم مایوس اور دباؤ کاشکار ہیں، بارہ اگست کو امتحان نہیں دے سکیں، مستقبل خطرے میں ہےملالہ نے کہا کہ کشمیریوں کو اپنے حق میں بولتا دیکھ کر خوشی ہوتی ہے، اس دن کا انتظار ہے جب کشمیر ان تکلیفوں سے آزاد ہو گا جس میں دہائیوں سے مبتلا ہے

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.