اسلامی ملک میں یہودی عبادت گاہ کی تعمیر

یہودی عبادت گاہ ابوظہبی میں کثیرالعقائد ‘ابراہیمک فیملی ہاؤس’ کمپلیکس کا حصہ ہے جہاں مسجد اور چرچ بھی ہوگا۔ کمپلیکس کی تعمیر کا اعلان رواں برس فروری میں پوپ فرانسس کے متحدہ عرب امارات کے دورے میں کیا گیا تھا جو خطے میں پہلی عبادت گاہ ہوگی۔متحدہ عرب امارات میں یہودی کمیونٹی کی یہ پہلی عبادت گاہ ہوگی جبکہ یواے ای کا اسرائیل سے سفارتی تعلق قائم نہیں ہے تاہم اسرائیلی حکام عالمی ایوٹنس میں شرکت کے لیے دورہ کرتے رہے ہیں اس کے علاوہ جبکہ متحدہ عرب امارات میں سرکاری سطح پر عیسائیوں کے لیے چرچ اور گرجاگھر اور گوردوارہ بھی اقلیتی افراد کو عبادت کے لیے تعمیر کیے گئے ہیں۔متحدہ عرب امارات کے مسلمانوں نے اس کمپلیکس کی بحیثیت تحمل اور برداشت کے مرکز کے طور پر حمایت کی ہے اور ان کا موقف ہے کہ اس سے مذہبی آزادی اور ثقافتی رنگا رنگی کو فروغ ملے گا ۔ متحدہ عرب امارات میں باہر سے آکر کام کرنے والے افراد کی اکثریت ہے جن میں اکثریت غیرمسلموں کی ہے

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.