مہنگائی کا ایک نیا سونامی آنے کو تیار

آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے ساتھ اجلاسوں کے بعد پاکستانی وفد وزیر خزانہ اسد عمر کی سربراہی میں پاکستان واپس پہنچ گیا ہے۔پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان معاملات طے پاگئے ہیں تاہم اسے ابھی تحریری شکل دینا باقی ہے۔ آئی ایم ایف نے پاکستان کی مجوزہ اثاثہ جات ڈیکلیئریشن اسکیم سے اختلاف نہیں کیا، پاکستان نے مجوزہ اسکیم کا مسودہ آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی ایف سے پہلے ہی شیئر کر لیا تھا، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے بھی اس اسکیم پر کوئی اعتراض نہیں اٹھایا۔آئی ایم ایف کے ساتھ بیل آؤٹ پیکج پر دستخط اپریل میں ہی کرلیے جائیں گے، آئی ایم ایف کی طرف سے پاکستان کو ملنے والا بیل آؤٹ پیکج 3 سال کے لیے ہوگا تاہم پاکستان کو 6 ارب ڈالرز یا 9 ارب ڈالرز کا پیکج دینا ہے اس کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے جس کے لیے آئی ایم ایف کا وفد اس ماہ کے آخر میں پاکستان کا دورہ کرے گا اور اس دورے کی تاریخ آئندہ ایک دو روز میں طے کی جائے گی۔جس کی تصدیق اسدعمر نے بھی کر دی ہےاثاثہ جات ڈیکلیریشن اسکیم کو آئی ایم ایف کے دورے سے پہلے قانونی شکل دی جائے گی، اثاثہ جات ڈیکلیریشن اسکیم کی حتمی منظوری کابینہ سے لی جائے گی، کابینہ سے منظوری پر ایک 2 روز میں صدارتی آرڈیننس کے ذریعے اسکیم نافذ کردی جائے گی، آرڈیننس جاری ہوتے ہی اثاثہ جات ڈیکلیریشن اسکیم فوری طور پر نافذ ہوگی،

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.