لاہور میں سرکاری اراضی کی غیرقانونی لیزکاکیس

جسٹس عظمت سعید شیخ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نےسپریم کورٹ لاہوررجسٹری میں پیٹرول پمپس کیلئے ایل ڈی اے اراضی کی غیر قانونی لیز سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ سرکاری اثاثوں کو بے رحم انداز میں بانٹا گیا۔جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ لیز کی میعاد کا معاملہ حل کیا جا سکتا ہے، کیوں نہ یہ معاملہ نیب کو بھجوا دیں؟ نیب خود دیکھ لے گا کہ اس معاملے میں کیا جرم ہوا ہے۔
سماعت کےدوران وکلا کی جانب سے عدالت میں اونچی آواز میں بات کرنے پر جسٹس عظمت سعید نے سخت برہمی کا اظہار کیا ،انہوں نے وکلاءکوتنبیہ کرتےہوئے کہا کہ یہ لاہور ہائیکورٹ نہیں جہاں شور مچا کر فیصلہ لے لیا جائے، کمرہ عدالت میں اپنی آواز دھیمی رکھا کریں۔
پنجاب حکومت کے وکیل نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے2003 میں کمرشل اور صنعتی سائٹس فروخت کی پالیسی بنائی تھی جو ختم کر دی گئی ہے، جس پر جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیئے کہ لگتا ہے یہ پالیسی کرایہ نہ ملنے کی وجہ سے بنائی گئی، مناسب کرایہ مل جائے تو ان سائٹس کو فروخت کرنے کی کیا ضرورت ہے۔جسٹس اعجاز الحسن نے کہا کہ نیلامی کے عمل میں حصہ لیے بغیر سائٹ لیز پر نہیں دی جا سکتی، موجودہ کرائے کے ساتھ پچھلے 3سال کے واجبات بھی دینا ہوںگے۔ سماعت کےدوران ایک موقع پر سینئر وکیل اعتزاز احسن کا جسٹس عظمت سعید سے مکالمہ بھی ہوا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.