رحیم یارخان:متاثرہ ٹریک بحال،ٹرین سروس28گھنٹے بعدشروع

رحیم یارخان میں حادثےکی وجہ سےمال گاڑی پٹری سےکیااتری، ٹرینوں کاتوجیسے پہیہ ہی جام ہوگیا۔ مختلف ٹرینوں کو چھوٹےبڑے اسٹیشنوں پر روکناپڑاجبکہ بہت سی ٹرینیں منسوخ کردی گئیں جس کی وجہ سےہزاروں کی تعدادمیں مسافروں کوپریشانی کاسامناکرناپڑا اورانہیں رات ریلوے سٹیشنوں پر گزارنا پڑی ،،،لاہور اور کراچی کے بڑے ریلوے سٹیشنوں کی حالت بھی کچھ مختلف نہیں تھی جہاں مزل مقصود تک پہنچنے کی آس لگائے بچوں،خواتین، بزرگوں کی ساری رات انتظار میں ہی کٹ گئی لیکن ظالم ٹرین نہ آئی جبکہ اس مشکل صورتحال میں وزیر ریلوے نظر آئے اور نہ ہی ریلوے انتظامیہ کہیں دکھائی دی۔کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے اور 28 گھنٹے کی جدوجہد کے بعد ریلوے ٹریک ٹھیک ہوسکا اور گاڑیوں نے اپنی اپنی منزل کی راہ لی۔۔۔علامہ اقبال ایکسپریس 22 گھنٹے اور پاکستان ایکسپریس 19 گھنٹے تاخیر سے کراچی پہنچی جبکہ سفر کے دوران مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔دوسری طرف راولپنڈی، لاہور، اور ملتان سے کراچی پہنچنے والی ملت ایکسپریس،پاکستان ایکسپریس،عوام ایکسپریس، زکریا ایکسپریس اور فرید ایکسپریس کے مسافر بھی رل گئے جنہیں18 گھنٹے انتظار کی سولی پر گزارنا پڑی ۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.