توہین عدالت کی کارروائی پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب مستعفی

لاہور ہائیکورٹ میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کی نئی جے آئی ٹی کی تشکیل کیخلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی۔ وزیراعلیٰ پنجاب لاہور ہائیکورٹ کے طلب کرنے پر پیش ہوئے، عثمان بزدار کو فل بنچ نے روسٹرم پر بلا لیا۔ جسٹس قاسم نے وزیراعلیٰ پنجاب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ کو کیوں بلایاگیا ؟ جس پر عثمان بزدار نے کہا جی مجھے معلوم ہے۔جسٹس قاسم خان نے کہا ایڈووکیٹ جنرل پنجاب صوبے کا اعلیٰ افسر ہوتا ہے۔ جسٹس ملک شہزاد نے وکلا کی جانب سے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا دیکھ رہے ہیں آپ وزیراعلیٰ صاحب، یہ ہے نیا پاکستان جہاں وزیراعلیٰ کو بلائیں تو اتنے وکیل آجاتے ہیں، 20 دن ہوگئے، یہ مسئلہ حل نہیں ہوا، یہاں تماشا لگا دیا گیا۔جسٹس قاسم خان نے پراسیکیوٹر کو کورٹ کا آرڈر پڑھ کر سنانے کا حکم دیا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کہا ہم عدالتوں کا احترام کرتے ہیں، میرے والد فوت ہوچکے تھے تو مصروف تھا،ایڈووکیٹ جنرل نے استعفیٰ دے دیا ہے،ہم ان کی جگہ اعلی افسر مقرر کریں گے،عدالت نے کیس کی سماعت 19 اپریل تک ملتوی کردی جبکہ احمد اویس کیخلاف توہین عدالت کا فیصلہ محفوظ کرلیا،یہ بھی 19 اپریل کو ہی سنایا جائے گا

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.