کرونا وائرس موسمی نہیں، ایک بڑی لہر ہے،عالمی ادارہ صحت

0
عالمی ادارہ صحت نے کرونا وائرس کو ‘ایک بڑی لہر’ قرار دیتے ہوئے شمالی نصف کرہ میں موسم گرما کے دوران وبا کی منتقلی سے متعلق خبردار کیا ہے کہ یہ وائرس انفلوئنزا کی طرح نہیں جو موسمی رجحانات کی پیروی کرے۔ڈبلیو ایچ او کی عہدیدار مارگریٹ ہیریس نے کہا کہ لوگ تاحال موسموں کے بارے میں سوچ رہے ہیں، لیکن ہم سب کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ نیا وائرس ہے اور یہ مختلف طرح سے برتاؤ کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ابھی وبا کی پہلی لہر ہے، یہ ‘ایک بڑی لہر’ بننے جارہا ہے،اس میں اتار چڑھاؤ آئیں گے لہٰذا یہی بہتر ہے کہ اس کا خاتمہ کردیا جائے۔مارگریٹ ہیرس نے امریکا میں گرمی کے موسم کے باوجود بڑھتے ہوئے کیسز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وائرس کی سست منتقلی کے لیے اقدامات پر زور دیا اور کہا کہ یہ لوگوں کے بڑے اجتماعات کے ذریعے پھیل رہا ہے۔انہوں نے شمالی نصف کرہ میں سردی کے دوران موسمی انفلوئنزا کے ساتھ کرونا کیسز سامنے آنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈبلیو ایچ او اس پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اب تک لیبارٹری نمونوں میں انفلوئنزا کے زیادہ کیسز سامنے نہیں آئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ‘اگر سانس کی بیماری اس وقت بڑھے جب آپ پر پہلے ہی سانس کی بیماری کا بہت زیادہ بوجھ ہو، تو یہ صحت کے نظام پر اور زیادہ دباؤ ڈالے گا۔’

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: