ایک سال کے دوران کشمیر میں سب کچھ وینٹی لیٹر پر چلا گیا

0
پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے یوم استحصال منایا جا رہا ہے۔ گزشتہ برس 5 اگست کو بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے اسے اپنے ساتھ غیر قانونی طریقے سے ضم کر لیا تھا لیکن اس ایک سال کے دوران جنت نظیر وادی کشمیر میں سب کچھ وینٹی لیٹر پر چلا گیا ہے۔پانچ اگست 2019 کی صبح جب اہلیان کشمیر نیند سے بیدار ہوئے تو نہ صرف تمام تر مواصلاتی ذرائع کو معطل پایا بلکہ سخت ترین کرفیو کے نفاذ سے ہر سو چھائی خاموشی سے بھی ششدر رہ گئے ۔ وادی میں ہر طرف بھارتی فوجی تعینات تھے، شہریوں کو جبری طور پر گھروں میں نظربند کردیا گیا اور کسی کو بھی اس ظلم کے خلاف آوازِ حق بلند کرنے کی اجازت نہ تھی۔
کشمیر میں اس دن سے طاری خاموشی آج بھی برابر جاری ہے۔ اگرچہ اس دوران مختصر وقفے کیلئے زندگی کی بحالی کی سرسراہٹ نے اس خاموشی کو توڑنے کی کمزور سی کوشش کی لیکن پھر عالمی سطح پر پھیلنے والی کرونا وبا نے اس کو مزید سنگین ہی نہیں بلکہ خوفناک بھی کر دیا ۔بھارتی حکومت نے مقبوضہ وادی کی خصوصی آئینی حیثیت کی تنسیخ کو یہاں تعمیر و ترقی میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے اور رشوت کے بازار کو ختم کرنے کا بنیادی موجب قرار دیا تھا لیکن گزشتہ ایک برس سے یہاں تعمیر و ترقی تو دور کی بات اس کے برعکس افلاس اور بے روزگاری کا گراف تشویش ناک حد تک اوپر چلا گیا ہے۔مقبوضہ وادی میں گزشتہ ایک برس سےہرطرح کی تجارتی سرگرمیاں ٹھپ ہیں، کشمیری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی مانا جانے والا شعبہ سیاحت آخری سانسیں لے رہا ہے، ہوٹل مالکان دیوالیہ ہوکر قرضوں کے بوجھ تلے دب چکے ہیں۔اور مودی سرکار کے اس اقدام سے ایک سال میں کشمیر کی معیشت کو چالیس ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کا نقصان ہوا ہے۔
کاروباری سرگرمیوں کی بندش سے بیروزگاری کا گراف بھی خطرناک حد تک اوپر چلا گیا ہےاور کمشیری شہریوں میں ذہنی امراض میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے ادھر کشمیر میں تعلیم کی صورتحال بھی ابتر ہے،تعلیمی ادارے مسلسل مقفل ہیں جبکہ انٹرنیٹ کی عدم دستیابی کے باعث طلبا کیلئےآن لائن تعلیم کا حصول بھی ممکن نہیں۔کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد کا عرصہ سیاسی رہنماؤں کے لیے بھی انتہائی پریشان کن ثابت ہوا۔ سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی سمتی بیشتر رہنما تاحال نظر بند ہیں جبکہ مزاحمتی لیڈروں میں سے اکثر بھارتی جیلوں میں پابند سلاسل ہیں جبکہ کئی اپنی ہی رہائش گاہوں پر نظر بند ہیں۔ایک سال بعد بھی مقبوضہ کشمیر کے باسیوں کے ذہنوں میں مختلف طرح کےخدشات کا طوفان بپا ہے اور وادی میں ہر سُو غیریقینی صورتحال سایہ فگن ہےاور ہر کوئی اپنے مستقبل کے بارے میں فکرمند ہے۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: