ڈیکسا میتھاسون کے استعمال پر عالمی ادارہ صحت کا ردعمل آگیا

0
غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس نے ڈییکسا میتھاسون کے برطانیہ سے ابتدائی آزمائش کے مثبت نتائج کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آکسیجن،وینٹی لیٹر کے مریضوں میں دوا سے موت کی شرح کو کم کرتے دیکھا گیا ہے۔ڈاکٹر ٹیڈروس نے مزید کہا کہ ڈیکسا میتھاسون نے سانس میں تکلیف نہ ہونے والے مریضوں پر فائدہ نہیں دکھایا،دوا کو صرف قریبی کلینکل نگرانی میں استعمال کیا جانا چاہئے۔دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیکسا میتھاسون 1957 میں ایجاد ہوئی اور 1960 میں اس کا استعمال شروع کیا گیا، ڈیکسا میتھاسون عالمی ادارہ صحت کی ضروری ادویات کی لسٹ میں بھی شامل ہے۔
گزشتہ روز برطانیہ کے سائنسدانوں نے اسٹیرائیڈ دوا ڈییکسا میتھاسون کو کرونا وائرس کے علاج میں انتہائی موثر قرار دیا تھا۔ برطانوی سائنسدان پروفیسر پیٹر ہاربے کا کہنا تھا کہ یہ اب تک کی پہلی دوا ہے جس نے کرونا میں اموات کو کم کر کے دکھایا ہے اور یہ ایک اہم پیشرفت ہے۔
تحقیقی ٹیم کے سربراہ مارٹن لیندرے کا کہنا تھا کہ ’ہمارے لیے یہ بہت اہم پیشرفت ہے،ہمیں ایسے علاج یا دوا کی تلاش تھی جس سے مریضوں کی جان بچائی جاسکے یا دوران علاج اُن کی موت کا خطرہ کم سے کم ہو،اس سے قبل کوئی دوا نہیں ملی تھی مگر اب ہم خوش ہیں کہ ایسی دوا مل گئی ہے‘۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: