کچھ بھی ہوجائےکرونا وائرس سےبچاؤکی ویکسین 2021 تک تیارنہیں ہوسکتی،عالمی ادارہ صحت

0

عالمی ادارہ صحت کےترجمان کا کہنا ہےکہ نئی ویکسین کی آزمائش کے تین مرحلے ہوتے ہیں،جس کے بعد مزید دواورمرحلے بھی ہوتے ہیں اور ان تمام مراحل کو مکمل کرنے میں ڈیڑھ سال کا وقت لگ جائے گا اور یوں کوئی بھی ویکسین 2021 کے اختتام سے قبل دستیاب نہیں ہوگی۔عالمی ادارہ صحت کے عالمی وبا کے الرٹ اور ریسپانس سینٹر کے سربراہ ڈاکٹر ڈیل فشر نےامریکی نشریاتی ادارے سے بات کرتے ہوئےبتایا کہ کرونا سے بچاؤ کی ویکسین کی آزمائش کا دوسرا اور تیسرا مرحلہ پہلے مرحلے سے زیادہ مشکل ہوتا ہے اور اس میں بہت وقت لگتا ہے۔
ڈاکٹرڈیل فشر کے مطابق پہلے مرحلے کی کامیابی کے بعد دوسرے مرحلے میں بہت سارے لوگوں پرویکسین کو آزمایا جاتا ہے اور ساتھ ہی اس دوران رضاکاروں کی صحت اور ویکسین کے نتائج کو بھی مانیٹر کیا جاتا ہے جو کہ ایک تھکا دینے والا مرحلہ ہے۔عالمی ادارہ صحت کے عہدیدارکےمطابق پہلے اوردوسرے مرحلے کی کامیابی کے بعد ویکسین کی آزمائش کا تیسرا اورسب سے اور بڑا مرحلہ شروع ہوتا ہے اورتیسرے مرحلےمیں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں لوگوں پر ویکسین کو آزمایا جاتا ہے۔ان کےمطابق لاکھوں لوگوں کوویکسین دینے، ان کی صحت مانیٹر کرنے اور دوا کے رد عمل جانچنے میں نہ صرف بہت بڑی ٹیم اور فنڈز کی ضررت ہوتی ہے بلکہ اس میں کافی وقت بھی لگتا ہے۔
ڈاکٹر ڈیل فشرکا مزید کہنا ہے کہ اگر تینوں آزمائشی پروگرام کامیاب بھی گئے اورویکسین کے نتائج بھی بہتر ثابت ہوئے تو ویکسین کا چوتھا مرحلے اس کی تیاری کا ہے جو کہ خود ایک بہت بڑا چیلنج ہے، جس کے بعد آخری مرحلہ اس ویکسین کی تقسیم اور دور دراز علاقوں تک ترسیل کا ہے اور ان سب مراحل کو طے کرنے میں ڈیڑھ سال کا وقت لگ سکتا ہے۔انہوں نے واضح طور پر ویکسین کی دستیابی کے حوالے سے کسی مہینے یا تاریخ کا ذکر نہیں کیا، تاہم بتایا کہ اگر تمام مراحل توقعات کےمطابق طے کیے گئے تو بھی ویکسین کی فراہمی 2021 کے آخر سے قبل ناممکن ہوگی۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: