افغان امن عمل کو بریک لگ گئی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے طالبان کے ساتھ جاری امن مذاکرات معطل کرنے کا اعلان کردیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کابل میں حملے کے بعد معطل کردیے۔انہوں نے کہا کہ کیمپ ڈیوڈ میں طالبان رہنماؤں سے خفیہ ملاقات بھی منسوخ کر دی ہے۔ کیمپ ڈیوڈ میں طالبان رہنماؤں اور افغان صدر سے علیحدہ ملاقاتیں ہونی تھیں، دونوں فریقین نےامریکا پہنچنا تھا۔ امریکی صدر نے کہا کہ کابل حملے میں ایک امریکی فوجی اور 11 دیگر افراد مارے گئے تھے جس کی ذمے داری افغان طالبان نے قبول کی ہے۔ جھوٹے مفاد کے لیے طالبان نے کابل حملے کی ذمے داری قبول کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ طالبان جنگ بندی نہیں کرسکتے تو اسکا مطلب ان میں بامقصد معاہدے کی صلاحیت نہیں، یہ کیسے لوگ ہیں جو بارگیننگ پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے لوگوں کو قتل کرتے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے سوال کرتے ہوئے کہا کہ طالبان مزید کتنی دہائیوں تک لڑنا چاہتے ہیں؟یاد رہے افغانستان کےصدراشرف غنی نے13رکنی وفدکے ہمراہ واشنگٹن روانہ ہونا تھا جہاں ان کی پیر کے روز صدر ٹرمپ سے ملاقات طے تھی تاہم افغان صدرنے یہ دورہ ملتوی کردیا

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.