افغانستان میں امن معاہدہ کھٹائی میں پڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا

0
افغانستان میں امن معاہدے کے باوجود امریکا اور طالبان پھر آمنے سامنے آ گئے۔ُپرتشدد واقعات میں اضافے کے سبب اور امن عمل کے خراب ہونے کے پیش نظر امریکی فوج نے طالبان کو خط لکھ دیا، معاملے کے سیاسی حل پر زور دیا ہے۔
طالبان کو لکھے گئے خط میں افغانستان میں امریکی افواج کے ترجمان کرنل سونی لیگٹ نے کہا کہ مزید خون بہنے سے روکنے کے لیے تمام فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔انہوں نے طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کو براہ راست لکھے گئے خط میں مخاطب کرتے ہوئے واضح کیا کہ اگر پرتشدد واقعات میں کمی نہ آئی تو ہم جواب دینے پر مجبور ہوں گے۔
انہوں نے لکھا کہ تمام فریقین کو سیاسی حل کی جانب لوٹنا چاہیے، افغانیوں کو مل بیٹھ کر افغانستان کے مستقبل کے کے بارے میں گفتگو شروع کرنی چاہیے۔یہ خط ایک ایسے موقع پر لکھا گیا ہے جب چند دن قبل 28 اپریل کو افغانستان میں امریکا اور نیٹو افواج کے سربراہ جنرل اسکاٹ ملر نے طالبان کو متنبہ کیا تھا کہ بڑھتے ہوئے پرتشدد واقعات میں کمی نہ آئی تو انہیں اس کے نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب قیدیوں کے تبادلے کا عمل ایک مرتبہ پھر تعطل کا شکار ہو گیا ہے کیونکہ کابل انتظامیہ اہم طالبان قیدیوں کو رہا کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہے،ان کا ماننا ہے کہ یہ دوبارہ جنگ کے لیے میدان میں اتر جائیں گے۔لیگٹ کے خط کے جواب میں طالبان نے اشتعال انگیز بیانات دینے پر امریکا کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنی جانب سے جنگ کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں اور اپنی جانب سے معاہدے کا احترام کر رہے ہیں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: