کشمیر کے معاملے پربھارت پر دباؤ ڈالیں

امریکی سینیٹرزالہان عمر، رال ایم گریجلوا، اینڈی لیون، جیمز مک گورن، ٹیڈ لیو، ڈونلڈ بیئر اور ایلن لواینتھل نے خط میں لکھا ہے کہ ایک ماہ سے زائد عرصے سے بھارتی حکومت نے جموں و کشمیر میں مواصلاتی رابطے بند کر رکھے ہیں اور بھارتی حکومت کی یہ روش جمہوری اور انسانی حقوق دونوں کے منافی ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں کرفیو، اظہار رائے، اجتماعات اور نقل وحرکت پر بندشیں سب ناقابل قبول پابندیاں ہیں، جموں و کشمیر سے اصل حقائق اور خبریں باہر نہیں آنے دی جارہیں اور بڑی تعداد میں جبری گرفتاریوں، عصمت دری، سیاسی اور مقامی رہنماؤں کی گرفتاریوں کی بھی اطلاعات ہیں۔سینیٹرز کے مطابق انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے بھی جموں و کشمیر کی صورتحال پر الرٹ جاری کیے ہیں، جینوسائیڈ واچ کے کشمیر میں نسل کشی کے الرٹ پر ہمیں بھی گہری تشویش ہے۔خط میں کہا گیا ہے کہ اس ساری صورتحال سے پاکستان بھارت کے تعلقات مزید خراب ہونےکا خدشہ ہے، موجودہ خطرناک صورتحال پوری دنیا اور امریکا کیلئے بھی خطرہ ہیں۔امریکی سینیٹرز نے مطالبہ کیا کہ جموں و کشمیر میں عائد پابندیاں اٹھانے، صحافیوں کی وادی میں رسائی، غیر قانونی حراست میں قید کشمیریوں کی رہائی، انسانی حقوق کی آزادانہ تحقیقات، پاکستان بھارت کے درمیان تناؤ کم کرانے اور کشمیریوں کو حق رائے دہی دلانے کیلئے بھی بھارتی حکومت پردباؤ ڈالیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.