امریکی سیکرٹری دفاع نےاپنے ہی صدر کے بیان کی نفی کردی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شام سے فوج کو واپس گھر بلانے کے دعوے کے برخلاف امریکی سیکرٹری دفاع کا کہنا ہے کہ ہماری فوج گھر واپس نہیں آرہی بلکہ امریکی فوجی شام سے نکل کر عراق جائیں گے کیونکہ امریکا مشکلات کے شکار مشرق وسطیٰ کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتا ۔مارک ایسپر کاکہنا ہے موجودہ منصوبے کے مطابق داعش کے خلاف کرد اتحادیوں کے ساتھ شام میں امریکا کی جنگ کو اب امریکی فورسز پڑوسی ملک عراق سے جاری رکھیں گےاور اس حوالے سے اپنے عراقی ہم منصب سے ایک ہزار فوجیوں کو شام سے مغربی عراق منتقل کرنے کے حوالے سے بات ہوئی ہے۔گزشتہ ہفتے امریکی صدر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی سپاہی اب میدان جنگ یا جنگ بندی کے زونز میں نہیں ہیں ،،، ہم نے تیل کو محفوظ بنادیا ہےاور اپنے سپاہیوں کو گھر واپس لارہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اب ہمارے گھر آنے کا وقت آگیا ہے۔دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور نگراں چیف آف اسٹاف مک ملوانے نے امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ‘امریکی فوج گھر واپس آئے گی،فی الوقت انہیں خطرے سے نکالنے کا فوری حل عراق بھیجنا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.