برطانوی وزیراعظم بورس جانس کو ایک اوردھچکا

برطانیہ کی بریگزیٹ پالیسی کو ایک اوربڑادھچکا،،،برطانوی سینیروزیرایمبررڈ نےاپنے عہدے سےاستعفی دے دیا اور پارٹی بھی چھوڑدی،،انہوں نے 21 ارکان پارلیمنٹ کو فارغ کرنے پر احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹوری ایم پیز کوفارٖغ کرناجمہورت ہر حملہ ہے،،،اعتدال پسندوں کو نکالنے پر حکومت کے ساتھ کھڑے نہیں رہ سکتی،،،ان کا کہنا تھا کہ وہ نہیں سمجھتی کہ حکومت ڈیل کے ساتھ یورپی یونین چھوڑنا چاہتی ہے،،،،دوسری جانب برطانیہ کے ایوانِ بالا نے وزیراعظم بورس جانسن کو بریگزٹ میں تاخیر کرنے پرمجبور کرنے کے لیے قانون کو حتمی منظوری دے دی گئی،، مذکورہ مسودہ ملکہ برطانیہ ایلزبتھ دوم کی منظوری کے بعد قانون بن جائے گا۔قانون کے مطابق اگر برطانوی وزیر اعظم یورپی یونین کے ساتھ بریگزٹ معاہدہ کرنے میں ناکام ہوگئے تو یورپی یونین سے برطانیہ کے اخراج کی حالیہ حتمی مدت 31 اکتوبر سے آگے بڑھا دی جائے گی۔یاد رہے کہ بورس جانسن کہہ چکے ہیں کہ ’بریگزٹ کی مدت میں توسیع مانگنے سے بہتر ہے کہ کھائی میں گر کر مر جاؤں‘۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.