ترک صدر نے لیبیا میں فوجی تعاون مسترد کردیا

0

ترک صدر رجب طیب اردوان نے لیبیا میں مصر اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے مشرقی علاقے کی فورسز سے تعاون کو مسترد کردیا۔ رواں ہفتے مشرقی فورسز کے قانون ساز نے مصر سے تنازع میں مداخلت کا مطالبہ کیا تھا جس کے بعد گزشتہ روز السیسی نے لیبیا کے قبائلی رہنماؤں سے ملاقات کی۔ مصری صدر نے کہا کہ مصر اور لیبیا کی سلامتی کو درپیش براہ راست خطرات پر خاموش نہیں رہیں گے۔ترک صدر اردوان نے مصر کی مداخلت کے امکانات سے متعلق جواب دیتے ہوئےکہا کہ یہاں مصر کے اقدامات خصوصاً باغی حفتر کی جانبداری سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایک غیر قانونی عمل میں ہیں جبکہ متحدہ عرب امارات کا رویہ قزاق جیسا ہےتاہم ترکی اپنا تعاون جی این اے کے ساتھ بدستور جاری رکھے گا۔لیبیا میں اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ حکومت کے ساتھ ترکی کے اچھے تعلقات ہیں اور عسکری مدد بھی فراہم کی جارہی ہے جبکہ مصر، متحدہ عرب امارات اور روس متحارب گروپ خلیفہ حفتر کی فورسز کے ساتھ ہیں۔ حال ہی میں ترکی سے مدد کے حصول کے بعد طرابلس کی جی این اے حکومت نے ڈرامائی انداز میں کمانڈر حفتر کی فورسز کو پیچھے دھکیل دیا ہے جبکہ کمانڈر حفتر نے گزشتہ برس طرابلس پر حملے شروع کردیے تھے اور اہم علاقوں پر قبضہ کیا تھا۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: