امریکہ پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام۔۔۔۔۔

ترک صدررجب طیب اردوان کا کوبانی کے قریب ترک اور روسی فوجیوں کے دوسرے مشترکہ مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ دونوں ممالک کی فوجیں کرد جنگجوؤں کوسرحد سے 30 کلومیٹر پیچھے دھکیلنے کے لیے معاہدے کے مطابق میدان میں ہیں۔شام کی مغربی سرحد کے دو علاقوں کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ‘ان علاقوں کو دہشت گردوں سے واگزار نہیں کروایا گیا۔دہشت گرد نہ تو تل رفعت سے گئے اور نہ ہی منبج سے بے دخل ہوئے ہیں۔ترک صدر نےمزید کہاکہ دہشت گرد اب راس العین کے مشرقی علاقے میں موجود ہیں لیکن ترکی اس وقت تک معاہدے پر قائم رہے گا جب تک امریکا اور روس اپنے وعدوں پر قائم ہیں۔امریکی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘ہم کس طرح وضاحت دیں کہ امریکا دہشت گرد تنظیم کے ساتھ خطے میں گشت کیوں کر رہا ہے حالانکہ انہوں نے دست برداری کا معاہدہ کیا تھا جو ہمارا نہیں تھایاد رہے کہ ترکی نے گزشتہ ماہ شام کے شمالی علاقے میں وائی پی جی کے خلاف کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ سرحد میں 30 کلومیٹر پر محیط ‘سیف زون’ بنانا چاہتا ہے جہاں شامی مہاجرین کو بسایا جائے گا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.