سوشل میڈیا کی اجارہ داری ختم کرنےکےلیے ٹرمپ کا بڑا قدم

0

امریکی میڈیا کےمطابق ایک صدارتی حکم نامے کے تحت سوشل میڈیا کو ضابطہ اخلاق کا پابند کردیا گیا ہے، اب فیس بک، ٹوئٹر اور دیگر پلیٹ فارمز کو کئی معاملات پرذمہ دارٹھہرایا جا سکےگا۔نئےحکم نامے کوپری وینٹنگ آن لائن سنسر شپ کا نام دیا گیا ہے، صدارتی حکم نامے کےمطابق اٹارنی جنرل سوشل میڈیا کے خلاف شکایات پر ایک ورکنگ گروپ تشکیل دیں گے۔امریکی صدرنےاس سلسلےمیں پریس کانفرنس میں کہا کہ آج کا دن شفافیت کےحوالےسےبڑا دن ہے،سوشل میڈیا کی طاقت پر چیک اینڈ بیلنس رکھنا بہت ضروری ہے،ٹوئٹرکا فیکٹ چیک کا مقصد سیاسی ہے،آج کا ایگزیکٹو حکم نامہ اظہار رائے کی آزادی کا تحفظ ہے،کیوں کہ ٹوئٹرنیوٹرل پلیٹ فارم نہیں ہے۔سیکشن 230 کے تحت سوشل میڈیا کے لیے نیا ضابطہ اخلاق تشکیل دیا جا رہا ہے، سوشل میڈیا کی اجارہ داری کو ختم کریں گے،ٹیکس کاپیسا کسی سوشل میڈیا کمپنی کونہیں جانےدیں گے،سوشل میڈیا چلانےوالوں کےپاس بہت پیسا ہے، ان بڑی سوشل میڈیا کارپوریشنزکواب امریکیوں کوتنگ نہیں کرنےدیں گے
پریس کانفرنس کےدوران ایک صحافی نےدل چسپ سوال کیا کہ کیا آپ اپنا ٹوئٹر اکاؤنٹ ڈیلیٹ کر رہے ہیں، ٹرمپ نے جواب دیا کہ میں نے ایسا کچھ نہیں سوچا، مجھے ٹوئٹر پر 186 ملین لوگ فالو کرتے ہیں، ٹوئٹر کو شٹ ڈاؤن کرنا پڑا تو قانونی طور پرکروں گا۔سپیکرنینسی پلوسی نےنئےحکم نامےپرملا جلا رد عمل دیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ فیس بک اور دیگر پلیٹ فارمز حقائق کے نام پر مال بنا رہے ہیں۔ ادھرنئےحکم نامےپرفیس بک اور ٹوئٹر کی انتظامیہ میں بھی اختلافات سامنے آئے ہیں۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: