افغان امن معاہدے پر پیشرفت

0

طویل محنت کے بعد طالبان کا تین رکنی وفد بین الافغان مذاکرات کے لیے کابل پہنچ گیا جس کو کابل کے ایک شان دار ہوٹل میں ٹھہرایا گیا ہے۔ امریکا سے معاہدے کے تحت قیدیوں کے تبادلے سے متعلق بات چیت کو حتمی شکل دی جائے گی،،،اس سے قبل طالبان نےمذاکرات کے لیے 10 رکنی وفد بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا تاہم افغانستان میں کرونا وائرس کے باعث وفد کومحدود کردیا گیا۔افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ ہماری تین رکنی ٹیکنیکل ٹیم قیدیوں کی رہائی کے لیے ان کی شناخت اور واپسی کے حوالے سے مدد کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے افغان حکومت سے معاہدہ کیا جائے گا اور پھر اس پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔ادھر افغان حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی مذاکراتی ٹیم کی توثیق صدر اشرف غنی کے سب سے بڑے سیاسی حریف عبداللہ عبداللہ نے بھی کردی ہے جس کے بعد ان مذاکرات کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔عبداللہ عبداللہ نے ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا کہ بین الافغان مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے مذاکراتی ٹیم کی تشکیل ایک اہم قدم ہے۔طالبان نے قیدیوں کی رہائی سے متعلق مذاکرات کے لیے 10 رکنی وفد بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا تاہم افغانستان میں کرونا وائرس کے باعث وفد کومحدود کردیا گیا۔
خیال رہے کہ اس سے قبل طالبان سے افغان حکومت کو امریکی کٹھ پتلی قرار دیتے ہوئے ان کے ساتھ براہ راست مذاکرات سے انکار کیا تھا تاہم امریکا سے معاہدے کے بعد بین الافغان مذاکرات پر اتفاق پایا گیا تھا۔
طالبان اور افغان حکومت کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ بنیادی نکتہ رہا ہے جس کے باعث امن مذاکرات بھی معطل ہوتے رہے ہیں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: