ہانگ کانگ: شدیداحتجاج پر چیف ایگزیکٹونےگھٹنےٹیک دیئے

ہانگ کانگ کی انتظامیہ نے بڑے پیمانے پر ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے بعد ملزمان کو چین کے حوالے کرنے سے متعلق متنازعہ بل واپس لے لیا۔ہانگ کانگ کی چیف ایگزیکٹو کیری لیم نے پہلے بڑے پیمانے پر مظاہروں کے باوجود بل کو واپس لینے سے انکار کر دیا تھا جبکہ مظاہرین کی جانب سے ہانگ کانگ کے معاملات میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا تھا۔احتجاجی مظاہروں میں مزید شدت آنے کےپیش نظر کیری لیم نے یوٹرن لے لیا،اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ مجھے بہت افسوس ہے کہ ہمارے بل میں کچھ کمی باقی رہ گئی اور بہت سے عوامل نے اس حوالے سے تنازعات بھی کھڑے کئے۔بل کے حوالے سے انتظامیہ کی جانب سے متعدد فون کیے گئے کہ اسے روک دیں اور اس پر سوچ بچار کریں۔چیف ایگزیکٹو نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ بل کے حوالے سے ہانگ کانگ انتظامیہ کی وضاحت غیر مناسب تھی۔ان کا کہنا تھا کہ میرا مقصد سب سے پہلے ہانگ کانگ کا مفاد تھا تاکہ امن و امان قائم ہو سکے،مجوزہ بل کا مقصد تائیوان میں ہونے والے قتل کے واقعے کے بعد شہر کو جرائم پیشہ سے محفوظ بنانا تھا۔کیری لیم نے کہا کہ مجوزہ بل کو پاس کرنے کی جلدی اس لیے کی گئی تاکہ بل کو آئینی سال پورا ہونے سے پہلے منظور کروا لیا جائے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.