سٹیٹ بینک نےصنعتوں کیلئےملازمین کوتنخواہ کی ادائیگی کیلئےقرضہ سکیم متعارف کرا دی

0
سکیم کو ‘’ری فنانس فارپیمنٹ آف ویجز اینڈ سیلری ٹو دی ورکرزاینڈ ایمپلائزآف بزنس کنسرنس’’ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ سکیم عارضی طور پر جاری کی گئی ہے۔سکیم کا مقصد کاروباری اداروں کو ترغیب دینا ہے کہ وہ اس ہنگامی صورتحال میں ملازمین کو برطرف نہ کریں۔ یہ سکیم پاکستان کے تمام کاروباری اداروں کو بینکوں کے توسط سے دستیاب ہوگی۔اس سکیم میں مستقل، عارضی، کنٹریکٹ ڈیلی ویجز اور آؤٹ سورس ملازم بھی شامل ہونگے۔ جو ادارے اپریل سے جون کے درمیان اپنے ملازمین کو برطرف نہیں کریں گے، وہ اس سکیم سے مستفید ہو سکیں گے۔
اس سکیم پر مارک آپ 5 فیصد ہوگا۔ ایکٹ ٹیکس پیئر لسٹ والوں کے لئے شرح سود 4 فیصد ہوگی۔ اس سکیم میں چھوٹے کاروباری اداروں کو تین ماہ کی تنخواہ 20 کروڑ روپے تک ہے۔ایسے ادارے جن کی تنخواہوں کا حجم 50 کروڑ روپے ہے وہ 50 فیصد تک فنانسنگ حاصل کر سکیں گے۔ ان قرضوں کے لئے پروسیسنگ فیس، کریڈٹ لیمٹ، پڑی پیمنٹ پینالٹی چارج نہیں ہوگی۔ قرض کی اصل رقم دو سال میں ادا کرنی ہوگی۔ قرض کی مدت میں چھ ماہ کی رعایت بھی ہوگی۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: