سپیکربلوچستان اسمبلی نے وزیراعلیٰ جام کمال کے خلاف اعلان بغاوت کردیا

0
عبدالقدوس بزنجو کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں ہمارا مقصد تھا کہ عوامی پارٹی اور عوامی حکومت بنائیں گے، کوشش تھی کہ حکومت بنانے کا جو موقع ملا ہے اس میں کام یاب ہوں، لیکن وزیر اعلیٰ بلوچستان پرفارم نہیں کر رہے، اگر آپ وزیر اعلیٰ ہاؤس کا دورہ کریں تو خود کہیں گے جام کمال کو نہیں رہنا چاہیے۔سپیکر بلوچستان اسمبلی کا کہنا تھا کہ کئی لوگ استعفے دے چکے ہیں، آہستہ آہستہ لوگ حکومت چھوڑ رہے ہیں، جام کمال باتیں اچھی کرتے ہیں لیکن ناکام ہو گئے ہیں۔ بزنجو نے ترجمان پر بھی تنقید کی، کہا وہ وزیر اعلیٰ کے ترجمان بنے ہوئے ہیں پارٹی کے نہیں۔ دوسری طرف وزیر اعلیٰ کا کہنا ہے کہ بلوچستان بڑا صوبہ ہے، مسائل بھی زیادہ ہیں۔بلوچستان حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی نےبزنجو کے بیان پر رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جس تحریک عدم اعتما کا ذکر کیا گیا ہے وہ نہ تحریک ہے، نہ عدم نہ اعتماد، بزنجو کی بیماری کا جواب ان کے ڈاکٹر دے سکتے ہیں، ایک شخص کے ذاتی گلے شکوے ہیں، وزیر اعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد سپیکر کی محض خواہش ہے، ہمارے دور میں جتنے کام ہوئے ہیں وہ 10 سال میں نہیں ہوئے، ہم حکومت کا موازنہ پچھلے ادوار کی بہ جائے دوسرے صوبوں سے کر رہے ہیں۔دوسری طرف ذرائع کاکہنا ہے کہ بلوچستان کابینہ میں رد و بدل کا فیصلہ کیا گیا ہے، 2 اراکین اسمبلی صوبائی وزیر کی حیثیت سے حلف اٹھائیں گے، ان نامزد اراکین میں سردار یارمحمد رند اور مٹھا خان کاکڑ شامل ہیں، گورنر بلوچستان صوبائی وزرا سے حلف لیں گے۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: