کرونا کیخلاف ناکافی سہولیات،چیف جسٹس وفاقی حکومت پربرہم

0
سپریم کورٹ میں کرونا وائرس ازخود نوٹس کی سماعت ہوئی جس میں عدالت نے حکومتی ٹیم اور اس کی کارکردگی پر سوال اٹھادیے۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ سمجھ نہیں آ رہی کس قسم کی ٹیم کرونا پر کام کر رہی ہے،اعلیٰ حکومتی عہدیداران پر سنجیدہ الزامات ہیں،ظفر مرزا کس حد تک شفاف ہیں کچھ نہیں کہ سکتے جب کہ معاونین خصوصی کی پوری فوج ہے جن کے پاس وزراء کے اختیارات ہیں اور کئی کابینہ ارکان پر جرائم میں ملوث ہونے کے مبینہ الزامات ہیں۔ وزیراعظم کی کابینہ غیر موثر ہوچکی ہے۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت کی آبزرویشن سے نقصان ہوگا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ریمارکس دینے میں بہت احتیاط برت رہے ہیں، عدالت کو حکومتی ٹیم نے صرف اعداد و شمار بتائے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ کوئی ملک کرونا سے لڑنے کے لیے پیشگی تیار نہیں تھا، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ قانون سازی کے حوالے سے حکومت کا کیا ارادہ ہے، کیا ایمرجنسی سے نمٹنے کے لیے پارلیمان قانون سازی کرے گا، کئی ممالک ایمرجنسی سے نمٹنے کے لیے قانون سازی کر چکے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ سماجی فاصلے کے لئے عوام کو خود ذمہ داری لینا ہوگی۔عدالت نے ریمارکس میں کہا کہ ریاستی مشینری کو اجلاسوں کے علاوہ بھی کام کرنا ہوتے ہیں،وزیراعظم کی کابینہ غیر موثر ہوچکی ہے، معذرت کے ساتھ لیکن وزیراعظم نے خود کو الگ تھلگ رکھا ہوا ہے، قانون سازادارےکام کیوں نہیں کررہے؟پوری دنیا میں پارلیمنٹس کام کررہی ہیں،پاکستانی پارلیمنٹ کیا کر رہی ہے،لوگوں کومرتاہوانہیں دیکھ سکتے، سب کچھ بندکردیاگیا،یہ نہیں سوچااس کےاثرات کیاہوں گے

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: