برطانوی پارلیمنٹ میں 17 ہویں صدی کا خفیہ راہداری دریافت

0

برطانوی دارالعوام میں یہ خفیہ دروازہ پارلیمنٹ میں جاری تزئین و آرائش کے کام کے دوران دریافت ہوا جس کے آگے ایک طویل راہداری موجود تھی جبکہ اس راہداری سے ماضی کی عظیم شخصیات گزری جن میں 17 ہویں صدی میں رکن پارلیمنٹ رہنے والے سیموئل پیپس اور برطانیہ کے پہلے باضابطہ وزیراعظم رابرٹ والپول بھی شامل ہیں۔قدیم راہداری کی اصل بنیاد 1660 میں برطانوی بادشاہ چارلس دوم کی تاج پوشی کی تقریب کے لیے رکھی گئی تھی تاکہ نئے بادشاہ کے جشن کی تقریب میں مہمان اس راہداری کے ذریعے شریک ہوسکیں
اس کے بعد میں پارلیمنٹ کے ارکان نے اس راہداری کو دارالعوام میں آنے جانے کیلئے استعمال کرنا شروع کردیا جو کہ اس وقت ویسٹ منسٹر پیلس میں موجود تھا لیکن 19 ویں صدی میں لگنے والی آگ نے پوری عمارت کو جلادیا تھا تاہم صرف وہ حصہ ہی آگ سے محفوظ رہا تھا جہاں یہ دروازہ دریافت ہوا ہے۔
پارلیمنٹ کی دوبارہ تعمیر ہوئی تو اس حصے کو بھی پارلیمنٹ میں شامل کرلیا گیا لیکن گزشتہ 70 برسوں کے دوران یہ دروازہ نظروں سے اوجھل رہا اور لکڑی کے تختوں کے پیچھے چھپا رہا جبکہ اس سے متصل جگہ پر لیبر پارٹی کے دفاتر بھی موجود رہے۔برطانوی دارالعوام کے اسپیکر لنزے ہوئل کا کہنا تھا کہ یہ ناقابلِ یقین بات لگتی ہے کہ ماضی کے بڑے بڑے لوگ اس میں چلتے پھرتے رہے ہیں، مجھے اپنے عملے پر فخر ہے جنہوں نے یہ دروازہ دریافت کیا۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: