پاکستانیوں کی بیرون ملک جائیدادیں

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ بینچ نے پاکستانیوں کے بیرون ملک اکاؤنٹس اور جائیدادوں کے معاملے کی سماعت کی۔سماعت کے آغاز پرایف بی آرحکام کی جانب سے سپریم کورٹ کو آگاہ کیا گیا کہ وزیراعظم کی بہن علیمہ خان نے انتیس اعشاریہ 4ملین روپے جمع نہیں کرائے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا، ‘ہم نے علیمہ خان کو کتنا وقت دیا تھا؟ جس پر ممبر ٹیکس ایف بی آر نے بتایا کہ ‘علیمہ خان 13 جنوری تک پیسے جمع کراسکتی ہیں’۔

دوران سماعت جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ ‘ایف آئی اے نے ماہانہ رپورٹ فائل کرنا تھی جوکہ ابھی تک فائل نہیں ہوئی،،،21 ماڈل کیسز پر کیا پیش رفت ہوئی؟’جس پر ایف بی آر حکام نے بتایا کہ ‘تمام کیسز پر کارروائی کر رہے ہیں،

ایف بی آر چیئرمین نے مزیدبتایا کہ ‘دبئی جائیدادوں پرملک بھرمیں دفاترقائم کر دیئے گئے ہیں اورسات سو پچہتر لوگوں نے دبئی کی جائیدادوں کے بارے میں بیان حلفی دے دئیے ہیں’۔جبکہ60 کیسز ایسے ہیں جن میں جائیدادیں زیادہ ہیں،ان کیسز سے زیادہ ریونیو ملنے کا امکان ہےاورانہیں ترجیحی بنیادوں پر دیکھیں گے۔

ایف بی آر کا کہنا تھا کہ 13 جنوری کو عدالت میں مفصل رپورٹ جمع کرادی جائے گی’۔جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ‘یہ کام جتنا جلدی ہوگا، ملک مستحکم ہوگا’۔ عدالت عظمیٰ نے 14 جنوری کو ایف بی آر اور ایف آئی اے سے دبئی جائیدادوں پر رپورٹ طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کردی۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.