عالمی معاشی بحران سعودی عرب کے”نیوم” شہر کی راہ میں حائل

0

سعودی عرب میں اس وقت 500 ارب ڈالرز کی لاگت سے ایک نئے شہر "نیوم "کی تعمیر پر کام جاری ہےجس کی تعمیر2025ءمیں مکمل ہونا تھی لیکن کرونا کے باعث عالمی کساد بازار اور تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی اس منصوبے کی راہ میں حائل ہوگئی ہےجبکہ سعودی حکومت نے معاشی بحران کی سنگینی سے بچنے کے لیے کچھ ایسے اقدامات کیے ہیں جن کی وجہ سے اس نئے شہر کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے۔
سعودی عرب کے اس مففرد شہر کی تفصیلات دنگ کردینے والی ہیں بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ کسی سائنس فکشن سے کم نہیں اور یقین کرنا مشکل ہے کہ حقیقی زندگی میں ایسا ہونا ممکن ہوگا۔ منفرد شہر کا اپنا چاند ہوگا جو رات کو چاندنی بکھیرے گا، لوگ اُڑ کر دفتر جایا کریں گے، جہاں روبوٹس کی تعداد انسانوں سے زیادہ ہوگی جبکہ ہولوگرام ٹیچرز طالبعلموں کو تعلیم دیں گے ۔
سعودی عرب کی تاریخ کے سب سے بڑے منصوبے میں کیمرے، ڈرونز اور چہرے کی شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی کا بہت زیادہ استعمال ہوگا، تاکہ شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔ نیوم میں جینیاتی تدوین کے منصوبے پر بھی کام ہوگا اور جینز میں تبدیلی لاکر انسانی مضبوطی اور ذہانت کو بڑھایا جائے گا۔اس کے علاوہ موسم کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے کلاﺅڈ سیڈنگ ٹیکنالوجی کا استعمال کرکے بارش کے برسنے کو یقینی بنایا جائے گا۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: