معاشرے کی تلخیوں کو الفاظ میں پرونے والے”منٹو” کی سالگرہ

0
برصغیر کے نامور اور منفرد افسانہ نگار اور مصنف سعادت حسن منٹو نے 11 مئی 1912 میں تعلیم یافتہ کشمیری گھرانے میں آنکھ کھولی۔ منٹو نے ابتدائی تعلیم امرتسر میں حاصل کی پھر کچھ عرصہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں گزارا ۔ عملی زندگی کا آغاز صحافت سے کیا اور کئی روسی ناولز کے ترجمے بھی کیے۔ ان کی پہلی کہانی تماشہ تھی جو جلیانوالہ باغ کے واقعے سے متاثر ہوکر لکھی گئی تھی۔
قیام پاکستان کے بعد وہ لاہور چلے آئے اور اپنی عمر کا آخری حصہ اسی شہر میں بسر کیا۔ اپنی تحریروں سے معاشرے کا بدبور دار چہرہ دکھانے والے منٹو نے اپنی تحریروں میں عورت کی بے بسی اور مرد کی بے حسی کو آئینہ دکھایا اور تمام تر تنقیدوں کے باوجود منٹو نے اپنے قلم اور لکھائی کا ساتھ نہ چھوڑا۔
منٹو نے اردو افسانہ نگاری میں منفرد موضوعات کی بدولت نہ صرف اپنے عہد میں ہلچل مچائی، بلکہ ہمیشہ کے لیے ایک انمول خزانہ بھی چھوڑ گئے۔ سعادت حسن منٹو نے اپنی 42 سالہ زندگی میں تین سو سے زائد افسانے، مضامین اور خاکے تحریر کیے، منٹو کی مشہور تخلیقات میں ٹوبہ ٹیک سنگھ، ٹھنڈا گوشت، نیا قانون، نمرود کی خدائی، سڑک کے کنارے اور دھواں نمایاں ہیں۔
منٹو نےاپنی زندگی کا آخری دور انتہائی کسمپرسی کی حالت میں گزارا اور 18 جنوری 1955 کو اردوادب کو تاریخی افسانے اور کہانیاں دینے والا منٹو خود تاریخ بن گیا۔ برصغیرکے اس عظیم افسانہ نگار کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے گوگل نے اپنا ڈوڈل ان کے نام کردیا ۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: