سائنسدانوں نےحیرت انگیز روبوٹک مچھلی بنالی

کورنیل یونیورسٹی میں واقع آرگینک روبوٹک لیب نے لائن فش جیسا ایک روبوٹ بنایا ہے۔ ربڑ،سلیکون اور پلاسٹک سے بنی اس مچھلی میں بیٹری ہے اور نہ ہی کوئی سیل لگا ہے بلکہ اس میں برقی مائع ہے جو مچھلی کو توانائی فراہم کرتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی انقلابی مائع اسے پانی میں آگے بڑھنے میں بھی مدد دیتا ہے۔ایک پمپ مائع کو دم کے ایک جانب سے دوسری جانب بھیجتا ہے۔ دوسرا پمپ مائع کو مچھلی کے پچھلے اور اگلے پروں کی جانب گھماتا ہے۔ اس طرح مچھلی میں حرکت ہوتی ہے اور آگے کی جانب تیرتی ہے جبکہ یہ روبوٹ مچھلی کسی مداخلت کے بغیر مسلسل 36 گھنٹے تک تیرتی رہتی ہے۔اگرچہ ابھی تک یہ روبوٹ ایک کھلونا نما چیز ہے تاہم مستقبل میں اسے بہتر بنا کر مچھلیوں کی نقل و حمل، آبی تحقیق اور سمندروں کا جائزہ لینے کے لیے استعمال کیا جاسکے گا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
1 تبصرہ
  1. Amber Shahzadi کہتے ہیں

    very nice…

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.