مسلمانوں پرمنظم اندازسےمظالم کیےگئے،گھر،دکانوں اورگاڑیوں کوپہلا ہدف بنایا گیا،،رپورٹ

0

دہلی اقلیتی کمیشن نےاپنی رپورٹ میں بتایا کہ مسلمانوں پرمنظم انداز سے مظالم کیے گئے، اس دوران اُن کے گھر، دکانوں اور گاڑیوں کو پہلا ہدف بنایا گیا، بعد ازاں گیارہ مساجد، پانچ مدارس اور ایک درگاہ سمیت قبرستان پرحملہ کر کےقبروں کی توہین کی گئی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ’حکومت نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے نام پر پولیس کی بھاری نفری کو مسلمان اکثریتی علاقوں میں تعینات کیا جنہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے شرپسندوں کے ساتھ مل کر کشیدگی پھیلائی اورمسلمانوں کو قتل بھی کیاکمیشن نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ پولیس نے کشیدگی کا الزام مسلمانوں پر عائد کرنے کی کوشش کی، جس کے بعد بڑے پیمانے پر مسلمانوں کونقصان پہنچایا گیا۔مسلمانوں کے قتل وغارت اوراملاک کونقصان پہنچانے میں انتہا پسندوں کے ساتھ پولیس بھی شامل رہی،رپورٹ میں بھارتی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے متعدد سینئررہنماؤں کوبھی مورد الزام ٹھہرایا گیا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بی جے پی کے دہلی اسمبلی کے رکن کپل شرما نے 23 فروری کو اشتعال انگیزتقریرکرکےفسادات کو ہوا دی اورانتہا پسندوں کے جذبات کو بھڑکایادہلی پولیس کے ترجمان انیل میٹال نےرپورٹ مسترد کرتے ہوئے اس کو جانب دار قرار دیا اور کہا کہ پولیس نے شفاف کردار ادا کیا تھا۔۔بھارتی حکومت نے رواں برس فروری میں سی اے ای نامی متنازع قانون متعارف کرایا تھا جس کے بعد نئی دہلی میں مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں نے پرامن احتجاج کیا تھا۔ احتجاج کے دوران 53 افراد کو قتل کیا گیا تھا جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی جبکہ 200 سے زائد مظاہرین زخمی بھی ہوئے تھے۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: