"حکومت نے پٹرول مافیا کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے”

0
ملک میں عام طور پر پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا نفاذ ہر ماہ کی پہلی تاریخ سے ہوتا ہے تاہم اس مرتبہ نئی قیمتوں کا اطلاق 27 جون رات 12 بجے سے ہی کردیا گیاحکومت کی جانب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کرنا تھا کہ سوشل میڈیا پر حزب اختلاف کے سیاسی رہنماؤں سمیت صارفین کی بڑی تعداد نے حکومت کو پ ٹرول کی قیمت میں ملکی تاریخ کا سب سے بڑا اضافہ قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کا نشانہ بنایا ۔مسلم لیگ ن کی صدر اور قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ” مافیاز کے لیے قائم حکومت جیت گئی اور پاکستانی عوام ہار گئے ۔ نیازی حکومت نے عوام کو مہنگائی کے ایک اور طوفان میں جکڑ دیا ہے۔اپنے ردعمل میں چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پٹرول کی قیمتوں میں تاریخی اضافہ کرنے والے ماضی میں معمولی اضافوں پر تنقید کرتے رہے ہیں، حکومت کو عام آدمی کی کوئی فکر نہیں،یہی نیا پاکستان ہے،پی پی رہنما ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہاکہ نالائق حکومت کا فیصلہ مافیا کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کے مترادف ہے۔مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے ن لیگی رہنما احسن اقبال نے کہا کہ بجٹ منظور نہیں ہوا اور حکومت نے پٹرول مہنگا کر کے عوام پر میگا مہنگائی بم چلا دیا ،سینیٹر پرویز رشید کا کہنا ہے کہ حکومت عوام کو سستا پٹرول تو میسر نہ کرا سکی البتہ قیمتوں میں اضافہ کر کے پٹرول مافیا سے اپنے رشتے کو بے نقاب ضرور کر دیا ہے۔
اداکارہ وینا ملک نے اپنے ایک ٹویٹ میں وزیر اعظم عمران خان کو مخاطب کرکے کہا ” خان صاحب عوام پوچھ رہی ہے اب تھوڑا گھبرا لیں؟”اداکار فہد مصطفیٰ نے بھی اپنا ردعمل کچھ یوں دیا ‘وزیر اعظم عمران خان صاحب ماضی میں آپ ہمیں کہتے رہے کہ یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے۔ حکومت میں آکر آپ کو کیا ہوگیا ہے؟صحافی اور اینکر پرسن منصور علی خان نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا ، حکومت کو چاہیے کہ تمام پٹرول پمپوں پہ بڑے بڑے سائین بورڈ لگوا دے جس پہ لکھا ہو "گھبرانا نہیں ہے” صحافی مبشر زیدی نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ اگر عمران خان خود کو عوام کا منتخب کردہ سمجھتے ہیں تو وہ سامنے آئیں اور وضاحت دیں۔ سیاسی تجزیہ کار مشرف زیدی نے ٹویٹ کیا ‘کل ٹی وی پر چلنے والا ٹکر کچھ یوں ہو گا” وزیر اعظم کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا علم نہیں تھا۔”جبکہ ایک صارف نے لکھا کہ ‘حکومت نے پیٹرول مافیا کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں، حکومت کو اس پر دوبارہ غور کرنا ہو گا۔’

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: