سپریم کورٹ،راؤ انوار کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست مسترد

راؤ انوار نے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ وہ ضمانت پر ہیں اور عمرے کے لیے جانا چاہتے ہیں، لہذا ان کا نام ای سی ایل سے نکالا جائے۔ راؤ انوار کا مزید کہنا تھا کہ ‘میرے بچے بھی ملک سے باہر ہیں، مجھے ان سے بھی ملنا ہے، عدالت جب بھی بلائے گی حاضر ہوتا رہوں گا’۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے آج راؤ انوار کی درخواست پر سماعت کی۔

سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ‘راؤ انوار بری کیسے ہوگیا؟’ جس پر وکیل نے بتایا کہ ان کے موکل بری نہیں ہوئے، ضمانت پر ہیں۔ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ‘راؤ انوار باہر جانے کی بات کر رہا ہے، اس کا پاسپورٹ ضبط ہونا چاہیے’۔ جس پر وکیل نے کہا کہ ‘ان کے کچھ گھریلو مسائل ہیں، جس کہ وجہ سے وہ جانا چاہتے ہیں’۔ تاہم چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ‘گھر والوں کو کہیں راؤ انوار سے یہاں آکر مل لیں’۔ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ‘ایک جوان بچہ نقیب اللہ مار دیا گیا، راؤ انوار یہاں سے کمایا ہوا پیسہ باہر منتقل کرنا چاہتا ہوگا’۔ اس کے ساتھ ہی سپریم کورٹ نے راؤ انوار کی ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست مسترد کردی۔ کمرہ عدالت میں موجود مقتول نقیب اللہ کے والد نے راؤ انوار کی درخواست مسترد ہونے پر عدالت کا شکریہ بھی ادا کیا۔

راؤ انوار رواں ماہ ہی اپنی مدت ملازمت مکمل ہونے کے بعدایس ایس پی کے عہدے سے ریٹائر ہوئے ہیں۔ دوران سروس انہوں نے کئی مبینہ پولیس مقابلے کیے جن میں سے ایک گزشتہ سال جنوری میں بھی سامنے آیا جس میں قبائلی نوجوان نقیب اللہ محسود کو مارا گیا۔ راؤ انوار کو نقیب اللہ کیس میں مرکزی ملزم نامزد ہونے پر عہدے سے ہٹایا گیا جبکہ ان کانام ای سی ایل میں شامل کردیا گیا تھا۔ نقیب اللہ قتل کیس کے بعد راؤ انوار اچانک منظر سے غائب ہوگئے تھے جبکہ ایک مرتبہ ان کی اسلام آباد ایئرپورٹ سے بیرون ملک فرار کی کوشش بھی ناکام ہوئی۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.