سپریم کورٹ:ریلوے اراضی فروخت کرنے پر پابندی

سپریم کورٹ نےمحکمہ ریلوے کو وفاق اور صوبوں میں زمین کی فروخت سے روکتے ہوئے ریلوے اراضی استعمال سے متعلق معاملہ نمٹا دیا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ریلوے خسارہ کیس کی سماعت کی۔ اس موقع پر وزیر ریلوے شیخ رشید عدالت میں پیش ہوئے۔ سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے آبزرویشن دی کہ سپریم کورٹ نے ریلوے اراضی کی فروخت پر پابندی لگا رکھی ہے۔ ریلوے کی زمین وفاق کی ملکیت ہے اور محکمہ ریلوے لیز پر زمین دے سکتا ہے مگر بیچ نہیں سکتا لیکن ایسا بھی نہ ہو کہ زمینیں 99 سال کی لیزپر دے دی جائیں۔

اس موقع پر وزیر ریلوے شیخ رشید نے کہا کہ جی بالکل ہم ایک مرلہ زمین بھی نہیں بیچ رہے۔ تین سے پانچ سال کی لیز پر کچھ اراضی دے رکھی ہے۔ شیخ رشید نے عدالت میں بیان دیا کہ ریلوے اراضی سے محکمے کو سالانہ 3 ارب روپے کی آمدن ہورہی ہے، اگر لیز ختم کرتے ہیں تو ریلوے کا مالی نقصان ہوگا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جو زمین ریلوے آپریشن کیلئے درکار نہیں اسے 5 سال کے لیے لیز پر دیا جا سکتا ہے تاہم پاکستان ریلوے کو کسی ہاؤسنگ سوسائٹی کی تعمیر کی اجازت نہیں ہوگی۔

سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ ریلوے اپنے زیراستعمال زمین پر کوئی قبضہ نہ ہونے دے اور رائل پام کلب کے معاملے پر عبوری حکم برقرار رہے گا، رائل پام کے معاملے کو اس معاملے سے الگ کر رہے ہیں جس کا قبضہ فرگوسن نے حاصل کر لیا ہے، اس معاملے کی الگ سماعت ہوگی۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.