پاکستانی فلمی صنعت کے عہد ساز نغمہ نگار

ہری پور ہزارہ کے بے مثل نغمہ نگار اور اردو کے معروف شاعرکا اصل نام اورنگزیب خان تھا۔ منفرد خیالات کو سادہ اسلوب میں ڈھال کر شعر کہنے کے فن میں مہارت رکھنے والے عہد ساز نغمہ نگار اور عظیم شاعر نے قتیل شفائی کے نام سے شہرت پائی۔
جب بھی آتا ہے میرا نام تیرے نام کے ساتھ
جانے کیوں لوگ میرے نام سے جل جاتے ہیں”
قتیل شفائی نے شاعری کی ہر صنف میں ہی سخن آرائی کی لیکن ان کے لکھے بے شمار فلمی گیتوں کو سرحد کے دونوں اطراف بے پناہ شہرت میسر آئی۔ انہوں نے برصغير پاک و ہند کی فلموں کے لیے ڈھائی ہزار سے زائد گيت بھی لکھے۔ حکومت پاکستان کی جانب سے انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔علاوہ ازیں قتیل شفائی نے آدم جی ایورڈ، نقوش ایوارڈ، اباسین آرٹ کونسل ایوارڈ اور امیر خسرو ایوارڈ سمیت 20 ایوارڈز اپنے نام کیے۔ جولائی کا مہینہ پاکستانی فلموں کے لیے لازوال گیت تخلیق کرنے والے نامور شاعر قتیل شفائی کے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے کی تکلیف دہ یادیں لے کر آتا ہے۔ ان کا انتقال گیارہ جولائی 2001 کو 82 برس کی عمر میں ہوا

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.