عراق میں حکومت مخالف پرتشددمظاہروں میں کمی نہ آسکی

عراقی وزیراعظم کےاستعفےکےاعلان کے باوجود بھی درالحکومت بغداد میں حکومت مخالف پرتشدد مظاہروں میں کمی نہ آسکی،،،سکیورٹی فورسزاور مظاہرین میں بغداد کےشہداء پل کے نزدیک جھڑپیں ہوئی اور سکیورٹی فورسز نے شاہراہ الرشید پر مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کردی،،، جس کے نتیجے میں 4افراد ہلاک اورمتعددزخمی ہوگئے،،حکام کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے جنوبی بندرگاہ اُم قصر کو بند کر دیا تھابغداد اور جنوبی شہروں میں یکم اکتوبر سے حکومت مخالف پُرتشدد احتجاجی مظاہروں میں 270 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ریلیوں کے دوران میں سکیورٹی فورسز کے اہلکار مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے براہ راست گولیاں چلاتے ہیںدوسری طرف اقوام متحدہ نے عراق میں حکومت مخالف احتجاجی تحریک کے دوران میں مظاہرین کی ہلاکتوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا ۔سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیریس نے کہا ہے کہ مظاہرین کے خلاف براہ راست گولیاں چلانے کی پریشان کن رپورٹس مسلسل موصول ہورہی ہیں،، انہوں نےتمام کرداروں پر زوردیا ہے کہ تشدد سے گریز کریں اور تشدد کی تمام کارروائیوں کی سنجیدگی سے تحقیقات کریں۔ سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیریس نے ایک مرتبہ پھر عراقی حکومت اور مظاہرین کے درمیان بامقصد اور معنی خیز بات چیت کی ضرورت پر زوردیا ۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.