"لاک ڈاؤن سے آزادی دو”جرمن شہریوں میں بے چینی بڑھنے لگی

0
دارالحکومت برلن میں سینکڑوں شہری گھروں سے نکل آئے اور ایک عرصے سے جاری لاک ڈاؤن کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ریلی نکالی،،، حکام کے انتباہ کے باوجود شہریوں کی جانب سے گزشتہ چند ہفتوں سے اس احتجاج کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔
لاک ڈاؤن کے خلاف گزشتہ احتجاج میں بائیں بازوں کے افراد کی جانب سے شمولیت دیکھنے میں آئی لیکن لیکن حیران کن طور پر اس مرتبہ حکومت کے خلاف احتجاج میں دائیں بازو کے افراد بھی موجود تھے۔
مظاہرین کو آگے بڑھتا دیکھ کر پولیس نے لگسمبرگ میں رکاوٹیں کھڑی کردیں جس کے بعد شرکا قریبی سڑکوں پر جمع ہونے لگے۔ چند مظاہرین نے ایسی شرٹس پہن رکھی تھیں جن پر چانسلر اینجلا مرکل پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے لوگوں پر عرصہ حیات تنگ کردیا ہے جبکہ دیگر افراد لاک ڈاؤن سے آزادی کے نعرے لگا رہے تھے۔
اس کے علاوہ بعض مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر درج تھا کہ ادویات بنانے والی کمپنیوں کی اجارہ داری ختم کی جائے جبکہ مظاہرین نے وائرس سے لاحق خطرات کو مسترد کرتے ہوئے لاک ڈاؤن اور ایمرجنسی کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔
پولیس نے مظاہرین کو منشتر کرنے کی کوشش کی اور احتیاطی تدابیر کی خلاف ورزی کرنے پر درجنوں افراد کو گرفتار کر لیا۔پولیس نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے کی جانے والی احتیاطی تدابیر کی روشنی میں یہ احتجاج جاری کردہ ہدایات اور قوانین سے مطابقت نہیں رکھتا۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: