فیس بک پرگستاخانہ مواد پوسٹ کرنے پر بنگلہ دیش میں ہنگامے

واقعہ ملک کے سب سے بڑے جزیرے بھولا کے علاقے برہان الدین میں پیش آیا جہاں ہزاروں افراد فیس بک پر ایک غیرمسلم شخص کی جانب سے توہین رسالت پر مبنی مبینہ پوسٹ کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے اور گستاخِ رسولﷺ کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا جسے گزشتہ روز گرفتار کیا جا چکا ہے۔مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کی جانب سے پہلےربڑ کی گولیاں فائر کی گئیں جس پر مظاہرین مزید مشتعل ہوگئے اور انہوں نے پولیس پر پتھراؤ شروع کردیا جس سے متعدد پولیس اہکار زخمی ہوگئے،،،جواب میں پولیس سے مظاہرین پر سیدھی فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 4 افراد جاں بحق اور 100 سے زائد زخمی ہوگئے۔فائرنگ سے زخمی ہونے والوں کو مقامی ہسپتال منتقل کیا گیا جن میں سے متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے اورجاں بحق افراد کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ دوسری جانب پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ مشتعل مظاہرین نے ملزم کی حوالگی کے لیے اہلکاروں پر حملہ کردیا جس پر پولیس نے اپنے دفاع میں ہوائی فائرنگ کی۔ہلاکتوں کےبعدعلاقےکی فضا شدیدکشیدہ ہےاور کسی کی عوامی ردعمل سے بچنے کیلئے حکام نے علاقےمیں مزید پولیس اہلکار اور نیم فوجی دستے تعینات کردیئے ہیں۔بنگلادیش میں 2016 میں بھی فیس بک پر مذہبی دل آزاری پر مبنی ایک پوسٹ پر ہنگامے پھوٹ پڑے تھے جب کہ 2012 میں بھی ایسی ہی صورت حال درپیش ہوئی تھی جس پر بڑے پیمانے احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.