وعدے چھت دینے کے،منصوبے چھت چھیننے کے

چھت دینے کے وعدے کرنے والی حکومت چھت چھیننے کے منصوبے بنانے لگی،،،50لاکھ گھر غریبوں کو میسر آئیں گے یا نہیں جو گھر بنا چکے ان کے لیے بھی مشکلات بڑھا دی گئیں۔ اب جائیداد خریدنا آسان رہی نہ بیچنا۔ ایف بی آر نے ملک بھرمیں کمرشل اور رہائشی جائیدادوں کی خرید و فروخت پر ٹیکس وصولی کے لیے پراپرٹی کی ویلیو ایشن میں 20 فیصد سے زائد اضافہ کرتے ہوئے نئے ویلیو ایشن ریٹ جاری کردیے اور اسی حساب سے انکم ٹیکس وصول کیا جائے گا۔
اس ضمن میں 20 نوٹی فکیشن جاری کیے گئے ہیں جس میں بتایا گیا ہے کہ اسلام آباد، لاہور، کراچی، فیصل آباد، پشاور، ملتان، مردان ، جھنگ، گجرات، سکھر، حیدرآباد، سیالکوٹ، سرگودھا، ساہیوال، کوئٹہ جہلم اور دیگر بڑے شہروں کے لیے جائیدادوں کی ویلیو ایشن میں 20 فیصد اضافہ کردیا گیا ہے اور اضافی قیمت پر فائلرز اور نان فائلرز سے ٹیکس
وصول کیا جائے گا اس ضمن میں نئے ریٹ جاری کردیے گیے ہیں۔
اضافہ شدہ قیمت کے مطابق جائیداد کی خریداری پر فائلرز سے 2 فیصد اور نان فائلرز سے 4 فیصد ایڈوانس انکم ٹیکس وصول کیا جائے گا تاہم جائیدادوں کی فروخت پر فائلرز سے ایک فیصد اور نان فائلرز سے دو فیصد ایڈوانس انکم ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ کمرشل جائیداد کی فروخت؛ فائلر پر ایک فیصد اور نان فائلر پر دو فیصد ٹیکس اسی طرح غیر منقولہ رہائشی و کمرشل جائیداد کی فروخت پر فائلر کو ایک فیصد اور نان فائلر کو مقررہ ویلیو کا دو فیصد ایڈوانس انکم ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ تین سال کے بعد فروخت ہونے والی غیر منقولہ جائیداد پر ایڈوانس انکم ٹیکس کا اطلاق نہیں ہوگا اسی طرح فائلر کو 40 لاکھ تک کی جائیداد کی خریداری پر ٹیکس ادا نہیں کرنا ہوگا اور اس سے زائد مالیت کی جائیداد پر ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔
ایف بی آر کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ایف بی آر کو 50 ارب روپے سے زائد کا اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے اور ملک میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں کاروباری سرگرمیوں میں بھی بہتری آئے گی۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.