۔26دسمبر دو شاعروں کے بچھڑنے کا دن

اردو ادب کے منفرد لہجے کی حامل پروین شاکر چوبیس نومبر انیس سو باون کو کراچی میں ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئیں۔پروین شاکر کو اردو ادب کی منفرد لہجے کی شاعرہ ہونے کی وجہ سے بہت کم عرصے میں اندرون اور بیرون ملک بے پناہ شہرت حاصل ہوگئی، انہیں پرائڈ آف پرفارمنس اور آدم جی ایوارڈز سے بھی نوازا جا چکا ہے۔

اس شرط پہ کھیلوں گی پِیا پیار کی بازی
جیتوں تو تجھے پاؤں، ہاروں تو پِیا تیری

پروین شاکر کی شاعری اردو ادب میں ایک تازہ ہوا کا جھونکا تھا ان کی منفرد شاعری کا موضوع عورت اور محبت ہے،ان کے مجموعہ کلام میں خوشبو، صد برگ، خود کلامی، انکار اور ماہ تمام قابل ذکر ہیں۔
چھبیس دسمبر 1994 کو اردو ادب کو مہکانے اور ادبی محفلوں میں شعر کی خوشبو بکھیرنے والی پروین شاکر اسلام آباد میں ایک ٹریفک حادثے میں موت کی وادی میں چلی گئیں

اردو ادب میں سنجیدہ اور احتجاجی شاعری میں اپنا الگ مقام رکھنے والے شاعر منیر نیازی نو اپریل انیس سو چھبیس کو ہندوستان کےضلع ہوشیار پور پنجاب میں پیدا ہوئے ،،، وہ بیک وقت شاعر،ادیب اور صحافی تھے۔

نیر کے لب ولہجے میں کڑواہٹ ضرور تھی تاہم وہ اس کڑواہٹ کو شاعری کے لبادے میں چھپانےکے قائل نہیں تھے۔ منیر نیازی نے جنگل سے وابستہ علامات کو اپنی شاعری میں خوبصورتی سے استعمال کیا ۔

منیر نیازی کی اردو شاعری کے تیرہ، پنجابی کے تین اورانگریزی کے دو مجموعے شائع ہوئے، جن میں “بے وفا کا شہر”، “تیز ہوا اور تنہا پھول جنگل میں دھنک” اوردیگر شامل ہیں ، منیر نیازی چھبیس دسمبردو ہزار چھ کو لاہورمیں انتقال کر گئے مگر انکی شاعری آج بھی زندہ ہے

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.