او آئی سی نےمقبوضہ کشمیرمیں ڈومیسائل قانون مسترد کردیا

0

ایک بیان میں اسلامی تعاون تنظیم کے انسانی حقوق کےبارے میں آزاد مستقل کمیشن نےکہا ہےکہ دنیا کرونا وائرس کی وبا کی روک تھام کی کوششیں کررہی ہےاوربھارت اس موقع کومقبوضہ جموں وکشمیرمیں مسلمانوں کی اکثریتی آبادی کا تناسب تبدیل کرنےکےگھناؤنے ہتھکنڈے کے طورپراستعمال کررہا ہے۔کمیشن نے کہا ہے کہ یہ چوتھے جنیوا کونشن کی شق ستائیس اورانچاس سمیت انسانی حقوق کے عالمی معاہدوں کے تحت کشمیری عوام کو دئیے گئے انسانی حقوق کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔
کمیشن نے اقوام متحدہ اورعالمی برادری پر زوردیا کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اوراسلامی تعاون تنظیم کی متعلقہ قراردادوں کی پاسداری کیلئےبھارت پر دباؤ ڈالنےکیلئےاپنا کردارادا کریں تاکہ بھارت کومقبوضہ کشمیرمیں کسی بھی انتظامی اورقانونی اقدام سےروکا جائے
دوسری جانب پاکستان نےاسلامی تعاون تنظیم کےاس بیان کا خیرمقدم کیا ہے،دفترخارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نےایک ٹویٹ میں کہا کہ یہ نو آبادیاتی اقدام ہےجواسلامی تعاون تنظیم، اقوام متحدہ کی قراردادوں،جنیوا کنونشن، عالمی اور انسانی حقوق کے قوانین کے منافی ہے۔اسلامی تعاون تنظیم کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے عائشہ فاروقی نے کہا کہ بھارت گزشتہ پانچ اگست سے مقبوضہ کشمیر میں بدترین سیاسی، اقتصادی اور مواصلاتی بندش کے ذریعے کشمیری مسلمانوں پرمنظم مظالم ڈھانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: