نئے پاکستان میں بیوروکریسی کی پرانی روش

وزارت اقتصادی امور کے اعدادوشمار کے مطابق 21 ارب 60 کروڑ ڈالر کی خطیر رقم میں 17 ارب 70 کروڑ ڈالر کے نسبتاً سستے قرضے اور 3 ارب 90 کروڑ ڈالر کی غیرملکی گرانٹ شامل تھی جس کی فراہمی کا وعدہ انٹرنیشنل ڈونرزاور قرض دہندگان نے کیا تھا مگر مختلف وجوہ کی بنا پر یہ گرانٹ نہ مل سکی۔اقتصادی ماہرین کے مطابق پاکستان سستے قرضے اور گرانٹس ایسے وقت میں حاصل کرنے سے محروم ہے جب حکومت اور اسٹیٹ بینک زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کے لیے مہنگے قرضے لینے کی راہ پر چل پڑے ہیں
اقتصادی ماہرین کے مطابق 21.6 ارب ڈالر کے قرض و گرانٹس کے لیے غیرملکی ڈونرز اور قرض دہندگان کے ساتھ معاہدوں پر دستخط پہلے ہی ہوچکے ہیں لہٰذا بیوروکریسی کی رکاوٹوں،کنٹریکٹ دینے کے طریقہ کار میں تیزی اور قرض کی منظوری کے مراحل کو سادہ بنا کر اس رقم کا کم از کم ایک چوتھائی حاصل کیا جاسکتا ہے ۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.