تبدیلی سرکارپھرایک بار،عوام پربجلی گرانے کو تیار

عالمی مالیاتی ادارے اور پاکستان کے بیل آوٹ پیکج پر مذاکرات ہوئے جس میں 4 بڑے مطالبات میں سے 2 پر اتفاق ہوگیا۔ آئی ایم ایف نے روپے کی قدر کے تعین سے متعلق پاکستانی موقف تسلیم کرلیا۔مذاکرات میں ٹیکس وصولوں کےہدف اوربینکوں کےقرضوں پرشرح سود بڑھانے کےلئے آئی ایم ایف کے مطالبات پر اتفاق نہ ہوسکا۔ روپے کی قدر کنٹرول کرنے کہ پاکستان کی پالیسی جاری رہے گی۔

اسلام آباد کو اقتصادی پیکج کے حوالے سے اب آئی ایم ایف کے جواب کا انتظار ہے۔مذاکرات میں پاکستان نے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کےلئے آئی ایم ایف کا مطالبہ تسلیم کرلیا جبکہ ریونیو وصولوں کے ہدف کے بارے میں پاکستان نے عالمی مالیاتی ادارے کا مطالبہ تسلیم نہیں کیا اور موقف اپنایا کہ رواں مالی سال کے دوران ٹیکس وصولوں کا ہدف چار ہزار چار سو ارب سے نہیں بڑھایا جائےگا۔ آئی ایم ایف کا وفد جنوری 2019ء کے پہلے ہفتے میں پاکستان آئے گاتاہم وفد کے نہ آنے کی صورت میں ویڈیو کانفرنس پر مذاکرات ہوں گے

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.