7 دہائیوں میں پاک امریکا تعلقات میں اتار چڑھاؤ

امریکا اگرچہ ان کچھ ممالک میں شامل ہے جنہوں نے قیام پاکستان کے بعد 20اکتوبر1947 کو پاکستان کیساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے تاہم گزشتہ 7دہائیوں کے دوران پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں اتارچڑھائو آتے رہے۔ پاکستان اور امریکا کے تعلقات اس وقت انتہائی خراب ہیں اور عدم اعتماد کی فضا قائم ہے۔تحقیق میں سامنے آیا ہےکہ پاکستان نے 1972 میں امریکی صدر رچرڈ نکسن کے دورہ چین کیلئے اہم کردار ادا کیا تھا جس کے بعد امریکا اور چین کےدرمیان کشیدہ تعلقات میں نرمی آئی۔ 1979میں امریکا نے پاکستان کے جوہری پروگرام کے حوالےسے تحفظات کا اظہارکیا۔ 1990 میں پریسلر ترمیم کے باعث اس وقت کے امریکی صدر کو کانگریس کے سامنے یہ یقین دہانی کروانی پڑی کہ پاکستان کے پاس جوہری ہتھیار نہیں۔ اس یقین دہانی نے ایک تہلکہ مچادیااورپھر امریکا پاکستان کی جانب سے 28مئی 1998میں کئےگئے جوہری حملے سے خوش نہیں ہوا اورپھر 1999میں مشرف کی جانب سے نواز شریف کا تختہ الٹانے پر امریکا کچھ تھوڑا بہت خوش ہوا۔27 جنوری 2011 کو سی آئی اے کنٹریکٹر ریمنڈڈیوس کی جانب سے لاہور میں فائرنگ کے واقعے، 2 مئی 2011 کوایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے خلاف خفیہ آپریشن اور 26 نومبر 2011کو سلالہ چیک پوسٹ پر نیٹو حملے کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات بری طرح متاثر ہوئے اور پھر اسامہ کیخلاف امریکی آپریشن میں امریکا کی مدد کرنے والے پاکستانی ڈاکٹرشکیل آفریدی کی رہائی کے حوالے سےایشوز بھی امریکا اور پاکستان کے درمیان اختلافات کی وجہ بنا۔مئی 2016میں امریکی کانگریس نے ایف 16طیاروں کیلئے فنڈز روک لیے۔اس سے ایک ہفتہ قبل پاکستان سے حقانی نیٹ ورک کے خلاف ایکشن لینے کا مطالبہ کیا گیاتھا، مئی 2016 میں ہی پاکستان نے امریکا کے اس احمقانہ دعوے کہ وہ پاکستان پر دبائو ڈال کر شکیل آفریدی کو رہا کروالیں گے کی مذمت کی تھی، اس وقت ٹرمپ امریکی صدارتی امیدوار تھے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.