مہینے بدلنے لیکن کشمیریوں کی قسمت نہ بدلی

0
مقبوضہ وادی میں کشمیریوں کو گھروں میں محصور ہوئے 6 ماہ ہونے کو آئے لیکن 5 اگست کے بعد سے حالات جوں کے توں ہیں،، کشمیریوں کا پل پل عذاب میں گزر رہا ہے۔ قید و بند نے کشمیریوں کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے۔ مودی سرکار کو نہ تو کشمیریوں کی بھوک کی کوئی فکر ہے اور نہ ہی دودھ کو ترستے معصوم بچوں پر ترس آیا ہے جبکہ درد سے تڑپتے مریض بھی ادویات اور علاج کو ترس رہے ہیں،،،وادی کشمیرمیں مسلسل 178 ویں روز بھی سخت فوجی محاصرہ ہے اور لوگوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کیلئے بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے جبکہ سرینگر سمیت وادی کشمیر کے طول وعرض میں انٹرنیٹ، پری پیڈ موبائل فون اور ایس ایم ایس سروسز مسلسل معطل ہیں جس کے باعث لوگوں خاص طور پر صحافیوں، طلباء اور تاجروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ادھر عالمی برادری کی مصالحت پسندی کےباعث مودی سرکار کے حوصلے مزید بڑھ گئے اور بھارتی فوجیوں نے سرینگر، گاندربل، بڈگام،پلوامہ، اسلام آباد، شوپیاں، بارہ مولا، بانڈی پورہ، کپواڑہ، ڈوڈا، رام بن، کشتواڑ، راجوڑی اور پونچھ کے اضلاع میں تلاشی اور محاصرے کی کارروائیوں کے دوران گھروں میں گھس کرلوگوں کو ہراساں کیا اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا۔ جبکہ 80 لاکھ کشمیری بھارتی جبر سے نجات کیلئے دنیا کی طرف دیکھ رہے ہیں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: