نیوزی لینڈ کے ہیڈ کوچ کے آئی سی سی کو مشورے

انہوں نے کہا کہ بہت سی چیزوں کا دوبارہ جائزہ لینا چاہیے جس کے لیے میں سمجھتا ہوں صحیح وقت ہے، سمجھ سے باہر ہے 50 اوورز کے کھیل کا فیصلہ ایک اوور پر کیسے کیا جا سکتا ہے۔ گیری نے کہا کہ جن قوانین کے مطابق 7 ہفتے کھیلتے رہے ہوں تو آخری دن کے لیے نیا قانون کیوں؟ موجودہ قانون جو بھی ہیں ہمیں ان کے مطابق چلنا پڑتا ہے امید ہے بحث جلد ختم ہو جائے گی۔کرکٹ کا عالمی کپ تو لارڈز کے تاریخی میدان میں اختتام پذیر ہو گیا لیکن انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے درمیان کھیلے گئے سنسنی خیز میچ سے ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے کہ یہ کیسی جیت ہے؟ دونوں ٹیمیں ایک دوسرے کے مد مقابل آئیں۔ امپائروں سمیت ہرکسی کو اسکور بورڈ پر دونوں کا اسکور بھی ایک ہی نظرآیا لیکن ایک نے ورلڈ کپ اٹھایا اور دوسری چپ چاپ چلی گئی۔شاید یہی وجہ ہے کہ شائقین کرکٹ آسٹریلیا سے لے کر افغانستان تک اور بھارت سے لے کر جنوبی افریقا تک یہی دو سوال پوچھتے نظر آرہے ہیں کہ اوور تھرو کا قانون کیا ہے اور انگلینڈ کو 6 رنز ملنے چاہئیں تھے یا پانچ؟ اگر سپر اوور کے اختتام پر اسکور برابر ہو تو ایک ٹیم کو دوسری پر کیسے فاتح قرار دیا جاسکتا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.