عالمی وباء کے خطرات سے آگے رہیں،جاسوس ایجنسیوں کیلئے نیا ٹاسک

0
اکیسویں صدی کےاس مہلک خطرے پر جلد قابو پانے کیلئے جاسوسی کو اپنانے کی ضرورت کو متعدد حکام نے اہمیت نہیں دی۔ایک ایسی غلطی جو ماہرین کے بقول ان کے دوبارہ کرنے کا امکان نہیں۔جراثیم جو جنگل کی آگ کی طرح پھیل سکتا ہے،فرانس کی ڈی جی ایس ای غیر ملکی انٹلیجنس سروس کے ایک سابق عہدیدار ایلین شوئےنے کہا ہےکہ یہ توجہ اور دور اندیشی کی ناکامی تھی،جاسوس ایجنسیوں کی نہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم اوسطا ہر پانچ سال بعد وبائی امراض دیکھتے ہیں،اور فرانسیسی سیاسی حکام کے لئے یہ فکر ہونی چاہئے تھی۔
اس تجزیے کو ہارورڈ میں صحت کی پالیسی کے پروفیسر رابرٹ بلینڈن نے شیئر کیا،جن کا کہنا تھا کہ امریکی ایجنسیوں نے صدر ٹرمپ کو کافی پہلےہی انتباہ کیا تھا کہ ان کے پاس وبائی امراض کے پھیلاؤ کے شواہد موجود ہیں۔انٹلیجنس ایجنسیوں نے دہائیوں سے بیماریوں کے خطرات پر روشنی ڈالی ہے ۔
سی آئی اے نے 1980 کی دہائی میں شروع ہونے والی ایڈز کی وبا کو کافی بغور ٹریکنگ کیا تھا۔یونیورسٹی آف گلاسگو کے انٹلیجنس اور بین الاقوامی سلامتی کے لیکچرر ڈیمین وان پیویلدی نے کہا کہ 1990 کی دہائی کے آخر میں اطلاعات نے صحت کی سلامتی کو قحط،خشک سالی یا جنگ جیسے خطرات سے جوڑنا شروع کیا۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: