نئےوفاقی بجٹ میں نئے ٹیکس نہیں لگائیں گے،مشیرخزانہ حفیظ شیخ

0
مشیرخزانہ ڈاکٹرعبد الحفیظ شیخ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی 72 سالہ تاریخ میں کبھی برآمدات نہیں بڑھ سکیں، موجودہ حکومت نےبرآمدات کے فروغ کیلئےکام کیا ہے۔موجودہ حکومت نےآغازکیا تو اسے20 ارب ڈالر کے بجٹ خسارہ کا سامنا تھا،حکومت نےاصلاحات کے پروگرام کا آغازکیا اوراب بجٹ کے خسارے میں نمایاں کمی لائی گئی ہے۔حفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ حکومت نےزرمبادلہ کے ذخائرمیں اضافہ کیلئےاقدامات بھی کئے ہیں اوران کوششوں کےنتیجہ میں سٹیٹ بینک کےذخائرکو 12 ارب ڈالرتک لےجایا گیا۔
مشیرخزانہ کاکروناوائرس کی وباء کے تناظرمیں مستقبل کومشکل قرار دیتے ہوئے کہنا تھا کہ آنےوالے دنوں میں زیادہ محنت کرنا ہوگی۔آنےوالےبجٹ میں کافی اشیاء پرڈیوٹیز کو کم کیا جارہاہے۔برآمدی شعبہ کوفروغ دینے کیلئےجامع اقدامات کئے گئے،حکومت ٹیکس ریفنڈزکی ادائیگی کےنظام میں نمایاں بہتری لائی ہے،ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ برآمدکنندگان اوردیگرشعبوں کو تیزرفتاری کےساتھ ری فنڈزکی ادائیگی کی گئی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارا بنیادی مقصد عوام کوریلیف فراہم کرنا ہے، حکومت کوشش کررہی ہے کہ امدادی پیکج کےذریعےلوگوں کے ہاتھ میں کیش پہنچایا جائے۔ معاشرے کےکمزوراورغریب طبقات کو احساس پروگرام کے تحت فی کس 12 ہزار روپے کی امداد دی جارہی ہے، اس پروگرام پرکامیابی سے عمل درآمد جاری ہے، احساس پروگرام کے تحت 90 ارب تک روپےضرورتمندوں کوپہنچائے جاچکے ہیں۔
حفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ حکومت کوورثے میں بڑے قرض ملے جن کی ادائیگی کیئے ہمیں وسائل کو موبلائز کرنا پڑا۔ گزشتہ سال کےمقابلے میں جاری مالی سال کے دوران ترسیلات زرمیں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے،تحریک انصاف کی حکومت بجٹ خسارے کو 9 فیصد کم رکھنے کی کوشش کررہی ہے،اس میں اپنے اخراجات کوبھی کم کرنے کی کوشش کررہے ہیں،آنے والےبجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لائیں گے،معیشت کو بڑھانے کے لیےملازمتیں پیدا کرنے والے شعبوں کوپیکیجز دیں گے

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: