نوازشریف کی تھیلیم سکین کی رپورٹ غیر تسلی بخش

نوازشریف کو 22 جنوری کو انجیوگرافی کےلئے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی لایا گیا، جہاں ان کی ای سی جی، ایکو کارڈیو گرافی، تھیلیم سکین سمیت دیگر ٹیسٹ کیے گئے تھے ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم کے پی آئی سی میں لئے گئے تھیلیم سکین کی رپورٹ آگئی ہے،ڈاکٹروں نے ان کی تھیلیم سکین کو غیرتسلی بخش قرار دے دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق نواز شریف کی دل کی ایک شریان معمول سے زیادہ تنگ ہے،شریان میں رکاوٹ کےباعث دل کےنچلےحصےمیں خون کی سپلائی متاثر ہے۔16 جنوری کو جناح ہسپتال اور پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے ڈاکٹرز پر مشتمل میڈیکل بورڈنےنواز شریف کا کوٹ لکھپت جیل میں طبی معائنہ کیاتھا اور خون کے نمونے لیے تھے۔
خون کی رپورٹ کے مطابق جناح ہسپتال کے ہیڈآف میڈیسن ڈیپارٹمنٹ پروفیسر تنویر الاسلام نے انجیوگرافی کا مشورہ دیاتھا۔ نواز شریف کو22 جنوری کو انجیو گرافی کیلیے پنجاب انسٹیٹوٹ آف کارڈیالوجی لایا گیا تھا تاہم پی آئی سی میں نواز شریف کا صرف تھیلیم ٹیسٹ ہی کیا گیا۔ ذرائع کادعوی ہے کہ ہسپتال انتظامیہ نے دباؤ اور سیکیورٹی وجوہات پر صرف تھیلیم ٹیسٹ کروایا،اگرانجیوگرافی ہوتی تو نواز شریف کو چند گھنٹے ہسپتال میں رکھنا ضروری تھا۔میاں نواز شریف کا تین سال پہلے بائی پاس بھی ہوچکا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.