مودی سرکار کا آزادی صحافت پرحملہ

مودی سرکار دوبارہ برسراقتدار آنے کےبعد اپنےخلاف اٹھنےوالی ہرآواز کوطاقت کےبل بوتےپردباناچاہتی ہے،اوراپنےاسی منصوبے کوعملی جامہ پہناتے ہوئے بھارتی حکومت آزادی صحافت کا گلہ بھی گھونٹنےپراترآئی،مودی حکومت نےملک کے 3 بڑے اخبارات کے اشتہارات روک لئے جس کے بارے میں اپوزیشن کا کہنا ہے کہ یہ تنقیدی رپورٹس شائع کرنے کا ردعمل ہے۔ٹائمز آف انڈیا’ اور ‘اکنامک ٹائمز’ اخبارات کے انتظامات سنبھالنے والی کمپنی بینیٹ کولمین اینڈ کو کے ایگزیکٹو نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ اشتہارات روکنے کی وجہ وہ رپورٹس ہوسکتی ہیں جن سےحکومت ناخوش ہے۔ دی ٹیلی گراف اخبار شائع کرنےوالےگروپ اے بی پی کے حکام نے بتایا کہ اگر آپ کچھ بھی حکومت کے خلاف شائع کرتے ہیں تو بطور سزا اشتہارات روک دیئےجاتے ہیں۔حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے ترجمان نالن کوہلی نے الزامات کورد کرتے ہوئےانہیں مضحکہ خیزقراردیاہے۔ان کا کہنا ہے کہ بھارت میں صحافت پوری طرح آزاد ہے۔عالمی آزادی صحافت کے انڈیکس برائے 2019 میں بھارت کا نمبر 180 ممالک میں سے 140 واں ہے جو افغانستان، میانمار اور فلپائن سے بھی کم ہے۔اپوزیشن رکن ماہواموئترانےحال ہی میں پارلیمنٹ میں اپنےدبنگ خطاب میں کہا تھا کہ مودی سرکار کا میڈیاپرناقابل تصورتسلط قائم ہےاوروہ اسےاپنےحق میں استعمال کرنےپرمجبورکرتی ہے

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.