رفتہ رفتہ وہ میری ہستی کا ساماں ہوگئے!!!۔

بر صغیر پاک وہند میں مہدی حسن کا نام اور ان کی آواز کسی تعارف کی محتاج نہیں،،، کلاسیکل موسیقی کے خاندان سے تعلق رکھنے والے استاد مہدی حسن 18 جولائی 1927ء کو بھارتی ریاست راجھستان میں پیدا ہوئے۔ 1957ء میں کراچی میں ریڈیو پاکستان سے باقاعدہ گلوکاری کا آغاز کیا۔ 1962 میں فلم فرنگی کے گیت گلوں میں رنگ بھرے بادِ نور بہار چلے مہدی حسن کی پہلی مشہور غزل تھی۔شہنشاہ غزل کے چاہنے والے نہ صرف پاکستان اور بھارت بلکہ ساری دنیا میں موجود ہیں اور جہاں غزل گائی اور سنی جاتی ہے وہاں ان کی مدھر آواز کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے۔ ان کا گیت اک حسن کی دیوی سے مجھے پیار ہوا تھا اتنا مشہور ہوا کہ یہ گیت آج بھی لاکھوں دلوں کی دھڑکن ہےگائیکی کے میدان میں بام عروج پر پہنچنے کی طویل جدوجہد کے بعد مہدی حسن فالج، سینے اور سانس کی مختلف بیماریوں کا شکار ہوگئے اور طویل علالت کے بعد 13 جون 2012ء کو کراچی میں خالق حقیقی سے جاملے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.